sponserd

WHAT'S NEW?
Loading...

ژوب (ایک خوبصورت رپورٹ)


ژوب صوبه بلوچستان کا ایک ضلع هےیه ایک دریا کے کنارے پر واقع هے.اسے اپوزئ بھی کهتے هیں جو که ژوب کا ایک گاؤں هے.برطانوی حکومت کے دوران اسے " فورٹ سنڈیمن  کهتے تھےلیکن بعد میں 30 جولائ 1976 کو پاکستان کے وزیراعظم زلفقار علی بٹو نے اسکا نام تبدیل کر کے ژوب رکھ دیا.
ژوب میں %96 لوگ مسلمان هیں اور دوسرے مذهبوں میں  عیسائ زیاده تعداد میں هیں.
ژوب کے لوگ زیاده تر دیهات میں اپنے ایام_ زندگی بسر کر رهے هیں .
ژوب میں مختلف قوموں کے لوگ رهتے هیں ان میں تقریبأ  %68 کاکڑ اور شیرانی هیں. دوسرے قوموں میں شیخ, حریفال, مندوخیل,لوؤن اور بابر هیں جوکه ژوب میں رهتے هیں.
ژوب کی آبادی 1901 میں انڈیا کے مطابق 3352 تهی اور 1998 کے مطابق 2 لاکھ سے زیاده جبکه تازه ترین رپورٹس کے مطابق 7 لاکھ سے زیاده تجاوز کر گئ.
ژوب کے ارد گرد مختلف دیهات هیں جن میں کلی اپوزئ, شیخان,کلی خروندئ, منور کلئ,ویاله کلئ, مریمه کلئ,سردار شاه وزیر کلئ اور اسی طرح کے کچھ اور گاؤں بھی هے جن کے بارے میں انشاء الله میں بهت جلد  اپ ڈیٹ کر لوں گا.
ژوب کی ثقافت اور رسم و رواج مختلف هیں ایک روسرے سے, جیسا که شادی, جرگه وغیره.
ژوب میں
زیاده تر لوگ پٹھان هیں اور چند ایک بنگی( کالے چهرے والے) بھی موجود هوتے   هیں.

Beautiful places of Zhob

There are a lot of beautiful places in which the people enjoy the best moment of thire life and also many people comes from other cities to Know about zhob city today i describe it completely but i  don't take any responsbality of my knowledge becouse human errors occures.
جیسا که آپ جانتے هیں که ژوب میں هر جگه تصویر کینچھنے کے قابل هوتی هے مطلب ژوب سارا خوبصورت هے.......میرے خیال میں میں نے کچھ زیاده هی بول دیا.........
دراصل هر انسان کی اپنی ایک سوچ هوتی هے اور اسی ایک هی سوچ کے سهارے وه اپنی زندگی بسر کر رهے هوتے  هیں اور پھراگر اگر وه اسی سوچ کا مثبت استعمال کریں تو شاهد وه اس دنیا میں جهاں %90 تک هر چیز ممکن ھے بهت کچھ کر سکتا هے.تو میں بات ژوب کی کر رها هوں یها کے لوگوں کی کر رها ھوں جوکه کافی پر امن لوگ هیں اور کافی حد تک پر امن ماحول بھی هے تو اس طرح کی ماحول میں آپ جهاں بهی جاتے هیں وه جگه آپ کو بهت پسند آتا هے.
جیسا که میں نے پهلے بھی کها که ژوب سارا خوبصورت هے لیکن ان میں بعض جگهیں ایسی هیں جها لوگ بهت شوق سے جاتے هیں اور اسے بهت پسند کرتے هیں اب میں نے تو سارا ژوب نهیں دیھکا لیکن پھر بھی جھاں تک میں گیا هوں یا پھر جهاں تک میں نے سنا هے اس میں آپ کے ساتھ شیئر کروں گا.
(1) سب سے مشهور جگه جهاں لوگ بهت شوق سے اور بهت بڑی تعداد میں جاتے هیں اسے هم پشتو میں "" سلیزئ"" کهتے ھیں یه کافی خوبصورت جگه ھے کیونکه یها صاف پانی بهتا هے اور یها پر بهت سارے سایه دار درخت بھی هیں جس کے ساۓ پر لوگ اپنی ضروریات پوری کر رهے هوتے هیں.
یه ژوب سے مشرق کی طرف تقریبأ 4 کلو میٹر دور ڈی آئ خان روڈ پر واقع هے میں نے خود بھی اس جگه کا دید کیا هے هم عید کے دن گۓ تھے اور اتنا رش تھا که کیا بتاؤں خیر مجھے تو بهت مزه آیا اگر آپ کبھ گۓ هو تو commentضرور لکھنا.شکریه ش 

(2)دوسری جگه جس کے بارے میں ھم نے کافی سنا هے مگر خود نهیں گیا وه "" شین غر "" هے .

کها جاتا هے که یه بهت ٹھنڈی جگه ھے اور یهاں پر برف بھاری بهی هوتی هے اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ ساتھ یها کا ماحول بھی کافی ٹھنڈا هے اور یهاں پر بهت اونچے پهاڑ بھی هیں جس پر چڑ کر آپ خوب لطف اندوز هو سکتے هیں . اگر آپ کے پاس "" شین غر "" کے بارے میں کچھ ٹھوس معلومات هو تو ھم سے ضرور شیئر کے جۓ گا

تیسری جگه میرے خیال میں "" برنج کلی"" ھے

یه جگه بھی ژوب کے ان جگهوں میں شمار کیا جاتا هے جھاں لوگ کافی تعداد میں میں پکنک مناتے هیں.

یهاں کا پانی بھی نهانے کے لۓبهت مشهور هے اور یهاں درخت اور پرنے سکول کے دو تین کمرے بھی هیں جسمیں لوگ پکنک وغیره مناتے هیں یه کلی ویاله سے آگے هیں ھم ایک بار پکنک پر اور دوسری بار رمضان میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سه روزه پر گۓ تھے  

اور اپنی زندگی کی خوبصورت یادیں 

محفوظ کیئں. 

)4)  چھوتی جگه میرے خیال میں   "" دریاۓ ژوب "" هے جهاں پر هم بچپن میں جایا کرتے تهے اور اپنی پکنک وغیره مناتے تھے حتی که ایک بار هم صرف نهانے کے لۓ بھی وھاں پر گۓ تھے . اس دریا کے بارے میں ایک بات مشهور هے که یه دنیا کا وه واحد دریا هے جو الٹا بهتا هے. یه "" سلیزئ "" سے اتا هوا واپس "" برنج "" کے راستے سے جاتا هے . یهاں پر تقریبأ ریت هی ریت هے اس لۓ یهاں کبھی بھی نهیں آنا .....!!!!

دریاۓژوب کے بارے میں کچھ معلومات::


بلوچستان اورخیبر پختونخوا،پاکستان میں واقع ہے۔ دریا کا نام اصل ایران زبان سے ہے۔ پشتو زبان میں، ژوب کا مطلب بہتا ہوا پانی ہے۔دریائے ژوب کی کل لمبائی 410 کلومیٹر ہے۔دریائے ژوب دریائے گومل کا معاون دریا ہے۔]1

[دریائے گومل ڈیرہ اسماعیل خان  سے 20 میل جنوب میں دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔دریائے ژوب شمالی بلوچستان میں زمین کو سیراب کرتا ہے۔

جیسا که میں نے پهلے بهی کها که ژوب خوبصورت هی خوبصورت هے اور یها ں دوسری بھی بهت ساری خوبصورت جگهیں ھیں جو ذکر کرنے کے قابل هیں جیسا که "" ویاله کلی "" , "" قبورو ڈیم "" , "" کوه سلیمان "" اور "" سباگزئ ڈیم "" وغیره وغیره اور میرے پاس ان جگهوں کے معلومات نهیں هیں اور نه کبھی گیا هوں . هاں ایک جگه هے جس کے بارے میں مجھے لکھنا چاهیے اور کافی خوبصورت بهی هے وه جگه هے "" گریٹ کلی اپوزئ"" ها دوستوں یه جگه بھی کافی اچھی جگه هے مگر اس میں انٹری بهت مشکل هے اور کو آپ اپنا ""اپوزئ شناختی کارڈ "" بنانا پڑ ے گا مگر آپ کا انٹری فری میری خاطر . صرف مجھ سے رابطه کیجۓ گا
شکریه اپنی معلومات ضرور بیج دینا . 

رابرٹ سنڈیمن ایک رپورٹ

یا آپ کو معلوم ہے رابرٹ سنڈیمن کون تھا؟بزرگی بہ عقل است -- نہ بہ سال)بڑائی کا تعلق عقل سے ہوتا ہے نہ کہ عمر سے( فارسی کا یہ محاورہ برطانوی کپتان رابرٹ سنڈیمن کو بہت پسند تھا لیکن ٹھہرئِیے ! ایک منٹ - کیا آپ کو پتہ ہے یہ رابرٹ سنڈیمن کون تھا؟ ہو سکتا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا -صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ والوں کو علم نہ ہو لیکن صوبہ بلوچستان کے لوگ تو بخوبی جانتے ہیں-جب سے میں نے ہوش سنبھالا جہاں گیا اس کا نام پایا - بلوچستان میں تو رابرٹ سنڈیمن کی یادگاریں بکھری ہوئی ہیں-بلوچستان کا علاقہ پاک و ھند کی آزادی سے قبل انگریزوں کے لئے اس لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا کہ یہیں سے گزر کر وہ افغانستان تک پہنچ سکتے تھے جہاں سے روس ان کی مملکت پر حملہ آور ہو سکتا تھا - لیکن بلوچستان کا قبائلی نظام کچھ اس قسم کا تھا کہ انگریزوں کو ان سے نبٹنے میں دشواری آرہی تھی - انگریزوں کے اعلیٰ دماغ یہاں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو رہےتھے.
کیپٹن رابرٹ سنڈیمن ایک جونیئر افسر تھا- جس کی تعیناتی انگریزوں نے پنجاب کے علاقہ ڈیرہ غازی خان میں کی تھی- رابرٹ سنڈیمن نے اپنی ڈیرہ غازی خان تعیناتی کے دوران اپنی سرحد سے پار بلوچوں کے رہن سہن - ثقافت - رسم و رواج کا مطالعہ کیا اور اس کے بعداپنی تجاویز پیش کیں - لیکن سینئر افسران نے اس کی تجاویز کو ناقابل عمل قرار دیا- سنڈیمن کا کہنا تھا کہ بلوچوں کو ایک ریاست کا شہری بنانے کا ارادہ ترک کردیں - ان کے سماجی و باہمی تعلقات جیسے بھی ہیں قبول کر لیں اور انکی صدیوں سے بنی ہوئی روایات نہ چھیڑیں -
خود سنڈیمن نے معلومات حاصل کیں - بلوچ کون ہیں؟ بروہی کون ہیں؟ان کی زبان الگ ہے تو کیا رہن سہن بھی الگ ہے؟ کیا دونوں زبان والے ایک دوسرے میں شادیاں کرتے ہیں؟ امن و امان کی کیا صورتحال ہے- اس صورت حال میں قبائلی رنجشوں کا کتنا دخل ہے؟ ڈھاڈر میں لا قانونیت کا یہ عالم تھا کہ دکاندار رات کو دکان بند کرنے کے لئے، دکان خالی کرتے اور دکان خالی کرنے کے بعد اپنا سامان ایک عمر رسیدہ نیک سیرت بزرگ کے گھر رکھوا دیتے تھے اور اپنے گھر بھی نہیں لے جاتے تھے کہ ڈاکہ نہ پڑ جائے -ولیم سنڈیمن نے تین ہزار سال پیشتر ہندو دانشور کی لکھی ہوئی کتاب “ ارتھ شاستر “ کا مطالعہ نہیں کیا تھا لیکن غور و فکر کے بعد اس کے ذہن میں یہی نکتہ سمجھ میں آیا کہ جنگ ہیتمام مسائل کا حل نہیں ہے- کوشش کی جائے کہ ایسے اقدامت کئے جائیں کہ ان بلوچوں کی انا کو ٹھیس لگائے بغیر ہی اپنے مقاصد حاصل ہو جائیں - اس نے گہری نگاہ سے سارا جائزہ لینے کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا کہ بلوچ قبائل کو ان کی ثقافت اور رواج کے مطابق اپنے اپنے قبائلی سرداروں کے زیر نگیں علاقے میں رہنے کی خود مختاری دے دی جائے -اس سے انگریزوں کو کوئی مسئلہ نہیں اٹھے گا-انگریز افسران بالا ان تجاویز سے بالکل اتفاق نہیں کرتے تھے- وہ یہاں کے معاملات بھی ایسا ہی حل کرنا چاہتے تھے جیسا باقی ماندہ ہندوستان میں کئے - یہ افسران اس کی تجاویز سے کس قدر نالاں تھے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ جیکب آباد میں اس سلسلے میں ایک میٹنگ بلائی گئی اور اس میں سنڈیمن کو بھی بلایا گیا لیکن میٹنگ کے باہر ہی کچھ نکات پر ایسا اختلاف ہوا کہ اسے میٹنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اس سے کہا گیا کہ ایک دن اور رات کے اندر اندر جیکب آباد کے علاقے سے باہر نکل جاؤ - یہی وہ مقام تھا جہان اس نے انگریزی میں فارسی کہاوت پڑھی بزرگی بہ عقل است-- نہ بہ سال)بڑائی کا تعلق عقل سے ہوتا ہے نہ کہ عمر سے(لیکن ان حالات میں بھی ولیم سنڈیمن دل برداشتہ نہیں ہوا - بعد میں اس نے سارے احوال ہائی کمانڈ کو لکھ کر بھیج دئے- ہائی کمانڈ نے بالآخر اسے اپنے طریقے اختیار کرنے کی اجازت دے دی-یہ ایک شادمانی کا موقع تھا- سنڈیمن بھی اس سے شادماں تو ہوا لیکن ایک گہرے تفکر میں بھی ڈوب گیا -ایک چھوٹے درجے کے افسر کے حوالے ایک بہت بڑی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی- اس نے انا کو ٹھیس لگائے بغیر امن کی تلاش کا سفر نہایت باریک بینی اور مہارت سے طے کرنا شروع کیا- اس کی یہ پالیسی اسے مقبولیت کی سیڑھیوں پر چڑھاتی چلیگئی-مری قبیلے سے کسی تنازعہ پر مذاکراتکا فیصلہ کیا گیا- لیکن بلوچوں کا اصرار تھا کہ سنڈیمن خود ان کے در پر آکر بات کرے وہ نہیں جائیں گے- سنڈیمن نے اس کا قطعآ برا نہیں مانا اور ایک صبح بغیر کسی حفاظتی دستے کے ان سے ملاقات کے لئے روانہ ہو گیا- اتنا ضرور کہا کہ ایک مہمان تم سے ملنے آرہا ہے- سنڈیمن کو ان کے مہمان کے بارے میں بلند اور عظیم روایات کا علم تھا- بلند و بالا سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان- پر خطر راہوں اور نا ہموار راستوں پر سفر کرتے ہوئے- بے آب و گیاہ وادیوں کو پار کرنے کے بعد اپنی منزل مقصود جا پہنچا- ان ساری صعوبتوںکو اس نے اپنے عزم راسخ کے بیچ میں حائل نہیں ہونے دیا -ایک مرتبہ کوئی قبیلہ خان قلات کے اعزاز میں جیکب آباد میں اس کے شان شایان دعوت کرنا چاہتا تھا- لیکن کچھ مسائل درمیان میں حائل ہو رہے تھے- سنڈیمن نے اس قبیلے کی خاموشی سےمدد کی اور یوں یہ تقریب ایک نہایت ہی عظیم الشان یادگار طریقے سے منعقد ہوئی اور بلوچوں کے دل میں اس کی محبت کے پھول کھلا گئی - اس کےیہی اطوار تھے جو اسے مسلسل ہر دلعزیز بنارہے تھے -اس نے بلوچوں کے ساتھ بلوچوں کی ثقافت اور رہن سہن کے مطابق معاملات طے کئے- عام بلوچ افراد اس بات پر مسرت محسوس کرتے تھے کہ اتنی بڑی قوت کے حامل ہونے کے باوجود انگریز ان پر دھونس نہیں جما رہے- اسی جذبے کے تحت وہ ولیم سنڈیمن کے ذاتی حفاظتی دستے میں شامل ہونے کے لئے اپنی خدمات بھی پیش کرتے تھے-

People & Population of zhob

The vast majority of the population of Zhob district is gurghasht.
It is likely that over 99.7% of the people of the area are Muslims, with tiny numbers of Christians. Currently the tribes living in Zhob are given by;
Mandokhail,
Sherani,
Kakar,
,Harifal,
Lawon,
babar.
      The local tribes while other immigrants include and make a huge population consisting of afghan pawandy like nasar kharoti safi ect.
Currently a large number of IDPs have been settled within the confines of the Distt.
NB: pleased to draw the attention of the Webmaster towards Zhob Tehsil and new announced boundary. Ist., there were only 2 tehsils, Zhob Tehsil and Tehsil Qamar din Karez Tehsil. While now Sherani Tehsil merged in Sherani District, it was announce as new district 3 years ago.

Zhob Division

Zhob is adistrictin the north west of Balochistan province of Pakistan.
Zhob District is a Provincially Administered Tribal Area. It is subdivided into three subdistricts:
Ashwat,
Zhob,Qamar Din Karezand,
Sambaza.
The population of Zhob District is estimated to be over 400,000 in 2011.
Zhob Riveris used for irrigation in the Zhob District.