یا آپ کو معلوم ہے رابرٹ سنڈیمن کون تھا؟بزرگی بہ عقل است -- نہ بہ سال)بڑائی کا تعلق عقل سے ہوتا ہے نہ کہ عمر سے( فارسی کا یہ محاورہ برطانوی کپتان رابرٹ سنڈیمن کو بہت پسند تھا لیکن ٹھہرئِیے ! ایک منٹ - کیا آپ کو پتہ ہے یہ رابرٹ سنڈیمن کون تھا؟ ہو سکتا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا -صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ والوں کو علم نہ ہو لیکن صوبہ بلوچستان کے لوگ تو بخوبی جانتے ہیں-جب سے میں نے ہوش سنبھالا جہاں گیا اس کا نام پایا - بلوچستان میں تو رابرٹ سنڈیمن کی یادگاریں بکھری ہوئی ہیں-بلوچستان کا علاقہ پاک و ھند کی آزادی سے قبل انگریزوں کے لئے اس لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا کہ یہیں سے گزر کر وہ افغانستان تک پہنچ سکتے تھے جہاں سے روس ان کی مملکت پر حملہ آور ہو سکتا تھا - لیکن بلوچستان کا قبائلی نظام کچھ اس قسم کا تھا کہ انگریزوں کو ان سے نبٹنے میں دشواری آرہی تھی - انگریزوں کے اعلیٰ دماغ یہاں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو رہےتھے.
کیپٹن رابرٹ سنڈیمن ایک جونیئر افسر تھا- جس کی تعیناتی انگریزوں نے پنجاب کے علاقہ ڈیرہ غازی خان میں کی تھی- رابرٹ سنڈیمن نے اپنی ڈیرہ غازی خان تعیناتی کے دوران اپنی سرحد سے پار بلوچوں کے رہن سہن - ثقافت - رسم و رواج کا مطالعہ کیا اور اس کے بعداپنی تجاویز پیش کیں - لیکن سینئر افسران نے اس کی تجاویز کو ناقابل عمل قرار دیا- سنڈیمن کا کہنا تھا کہ بلوچوں کو ایک ریاست کا شہری بنانے کا ارادہ ترک کردیں - ان کے سماجی و باہمی تعلقات جیسے بھی ہیں قبول کر لیں اور انکی صدیوں سے بنی ہوئی روایات نہ چھیڑیں -
خود سنڈیمن نے معلومات حاصل کیں - بلوچ کون ہیں؟ بروہی کون ہیں؟ان کی زبان الگ ہے تو کیا رہن سہن بھی الگ ہے؟ کیا دونوں زبان والے ایک دوسرے میں شادیاں کرتے ہیں؟ امن و امان کی کیا صورتحال ہے- اس صورت حال میں قبائلی رنجشوں کا کتنا دخل ہے؟ ڈھاڈر میں لا قانونیت کا یہ عالم تھا کہ دکاندار رات کو دکان بند کرنے کے لئے، دکان خالی کرتے اور دکان خالی کرنے کے بعد اپنا سامان ایک عمر رسیدہ نیک سیرت بزرگ کے گھر رکھوا دیتے تھے اور اپنے گھر بھی نہیں لے جاتے تھے کہ ڈاکہ نہ پڑ جائے -ولیم سنڈیمن نے تین ہزار سال پیشتر ہندو دانشور کی لکھی ہوئی کتاب “ ارتھ شاستر “ کا مطالعہ نہیں کیا تھا لیکن غور و فکر کے بعد اس کے ذہن میں یہی نکتہ سمجھ میں آیا کہ جنگ ہیتمام مسائل کا حل نہیں ہے- کوشش کی جائے کہ ایسے اقدامت کئے جائیں کہ ان بلوچوں کی انا کو ٹھیس لگائے بغیر ہی اپنے مقاصد حاصل ہو جائیں - اس نے گہری نگاہ سے سارا جائزہ لینے کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا کہ بلوچ قبائل کو ان کی ثقافت اور رواج کے مطابق اپنے اپنے قبائلی سرداروں کے زیر نگیں علاقے میں رہنے کی خود مختاری دے دی جائے -اس سے انگریزوں کو کوئی مسئلہ نہیں اٹھے گا-انگریز افسران بالا ان تجاویز سے بالکل اتفاق نہیں کرتے تھے- وہ یہاں کے معاملات بھی ایسا ہی حل کرنا چاہتے تھے جیسا باقی ماندہ ہندوستان میں کئے - یہ افسران اس کی تجاویز سے کس قدر نالاں تھے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ جیکب آباد میں اس سلسلے میں ایک میٹنگ بلائی گئی اور اس میں سنڈیمن کو بھی بلایا گیا لیکن میٹنگ کے باہر ہی کچھ نکات پر ایسا اختلاف ہوا کہ اسے میٹنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اس سے کہا گیا کہ ایک دن اور رات کے اندر اندر جیکب آباد کے علاقے سے باہر نکل جاؤ - یہی وہ مقام تھا جہان اس نے انگریزی میں فارسی کہاوت پڑھی بزرگی بہ عقل است-- نہ بہ سال)بڑائی کا تعلق عقل سے ہوتا ہے نہ کہ عمر سے(لیکن ان حالات میں بھی ولیم سنڈیمن دل برداشتہ نہیں ہوا - بعد میں اس نے سارے احوال ہائی کمانڈ کو لکھ کر بھیج دئے- ہائی کمانڈ نے بالآخر اسے اپنے طریقے اختیار کرنے کی اجازت دے دی-یہ ایک شادمانی کا موقع تھا- سنڈیمن بھی اس سے شادماں تو ہوا لیکن ایک گہرے تفکر میں بھی ڈوب گیا -ایک چھوٹے درجے کے افسر کے حوالے ایک بہت بڑی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی- اس نے انا کو ٹھیس لگائے بغیر امن کی تلاش کا سفر نہایت باریک بینی اور مہارت سے طے کرنا شروع کیا- اس کی یہ پالیسی اسے مقبولیت کی سیڑھیوں پر چڑھاتی چلیگئی-مری قبیلے سے کسی تنازعہ پر مذاکراتکا فیصلہ کیا گیا- لیکن بلوچوں کا اصرار تھا کہ سنڈیمن خود ان کے در پر آکر بات کرے وہ نہیں جائیں گے- سنڈیمن نے اس کا قطعآ برا نہیں مانا اور ایک صبح بغیر کسی حفاظتی دستے کے ان سے ملاقات کے لئے روانہ ہو گیا- اتنا ضرور کہا کہ ایک مہمان تم سے ملنے آرہا ہے- سنڈیمن کو ان کے مہمان کے بارے میں بلند اور عظیم روایات کا علم تھا- بلند و بالا سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان- پر خطر راہوں اور نا ہموار راستوں پر سفر کرتے ہوئے- بے آب و گیاہ وادیوں کو پار کرنے کے بعد اپنی منزل مقصود جا پہنچا- ان ساری صعوبتوںکو اس نے اپنے عزم راسخ کے بیچ میں حائل نہیں ہونے دیا -ایک مرتبہ کوئی قبیلہ خان قلات کے اعزاز میں جیکب آباد میں اس کے شان شایان دعوت کرنا چاہتا تھا- لیکن کچھ مسائل درمیان میں حائل ہو رہے تھے- سنڈیمن نے اس قبیلے کی خاموشی سےمدد کی اور یوں یہ تقریب ایک نہایت ہی عظیم الشان یادگار طریقے سے منعقد ہوئی اور بلوچوں کے دل میں اس کی محبت کے پھول کھلا گئی - اس کےیہی اطوار تھے جو اسے مسلسل ہر دلعزیز بنارہے تھے -اس نے بلوچوں کے ساتھ بلوچوں کی ثقافت اور رہن سہن کے مطابق معاملات طے کئے- عام بلوچ افراد اس بات پر مسرت محسوس کرتے تھے کہ اتنی بڑی قوت کے حامل ہونے کے باوجود انگریز ان پر دھونس نہیں جما رہے- اسی جذبے کے تحت وہ ولیم سنڈیمن کے ذاتی حفاظتی دستے میں شامل ہونے کے لئے اپنی خدمات بھی پیش کرتے تھے-
WHAT'S NEW?
Loading...
I am shahid khan appozai from zhob thanks to visit our blog.
Best of Luck
0 comments:
Post a Comment